کیا جے آئی ٹی سے کتاب ’’بیگمات کے آنسو‘‘ تحریر ہوگی؟


ہندوستان میں حکمرانی کا ایک سسٹم موجود تھا جسے بادشاہت کہا جاتا۔ انگریزوں نے 1857ء میں بلاامتیاز تفصیلی آپریشن کرکے اس سسٹم میں تبدیلی لائی اور بادشاہت ختم ہوگئی۔ پھولوں کے بستر پر سونے اور عرقِ گلاب سے نہانے کے عادی شہزادے شہزادیاں محل اور بڑی حویلیوں سے نکل کر زمینی حقائق میں دربدر ہوگئے۔ اِن تاریخی دلخراش داستانوں کو صوفی بزرگ اور اردو تحریر کے بے تاج بادشاہ خواجہ حسن نظامی نے ’’بیگمات کے آنسو‘‘ کے نام سے تاریخ میں محفوظ کردیا۔ اس کتاب کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ نسل در نسل حکمرانی کرنے والوں پر جب حکمرانی کے دروازے بند ہوئے تو وہ کیا سے کیا ہوگئے؟ مثلاً ’’شہزادہ خانساماں‘‘ کے باب میں تحریر ہے کہ بادشاہت کے خاتمے کے 70برس بعد جب ایک مہاراجہ بمبئی کے تاج محل ہوٹل میں ٹھہرے تو اُن کی خدمت کے لئے 80برس کے ایک خانسامے قسمت بیگ کو مقرر کیا گیا۔ اس خانسامے کی شہرت تھی کہ وہ ہوٹل کے تمام ملازمین میں سب سے زیادہ ایماندار، خدمت گزار اور مشرقی عادات بجا لانے والا تھا۔ مہاراجہ اپنے قیام کے دوران اُس سے بہت متاثر ہوئے اور جانے سے کچھ دیر قبل خانسامے کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا کہ ’’تمہاری عادات کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ تم کسی اعلیٰ خاندان سے ہو‘‘۔ خانساماں ہاتھ باندھے خاموش کھڑا رہا۔ مہاراجہ کے اسرار پر اُس نے بتایا کہ وہ ’’بہادر شاہ بادشاہ کا بیٹا‘‘ ہے۔ مہاراجہ کی زبان سے بے اختیار نکلا ’’کیا تم تیموری شہزادے ہو؟‘‘ خانساماں آہستگی سے بولا ’’اب شہزادہ نہیں، آہ زادہ ہوں۔ تیموری خاندان تو اب مٹ چکا جس نے باوجود انسان ہونے کے دوسرے انسانوں کو غلام بنایا‘‘۔ اُس نے مزید بتایا کہ ’’میں بادشاہ کی چہیتی کنیز کا بیٹا ہوں۔ جب میں دس برس کا تھا تو انگریزوں نے ہماری بادشاہت ختم کردی۔ ایک لمبے عرصے تک میری ماں مجھے خانقاہوں اور جھونپڑیوں میں چھپاتی رہی۔ جب انقلاب کا خون آلود طوفان تھما تو انگریزوں نے میری ماں کو دلی کی جامع مسجد کے قریب ایک محلے میں رہنے کے لئے تھوڑی سی جگہ دی اور چند ٹکے ماہوار وظیفہ مقرر کردیا جو انتہائی ناکافی تھا۔ ماں نے محنت مزدوری شروع کردی اور میں نے خانسامے کا کام سیکھا اور اس میں مہارت حاصل کی۔ لہٰذا میں آج آپ کے سامنے ہوں‘‘۔ مہاراجہ نے اُسے پیشکش کی کہ وہ اُن کے ساتھ چل کر رہے اور باقی زندگی آرام سے گزارے۔ خانسامے نے مہاراجہ کو تین فرشی سلام کئے اور ہاتھ باندھ کر معذرت کی۔ مہاراجہ نے اُسے ایک ہزار روپے کا چیک ٹپ کے طور پر دیا۔ خانسامے نے ٹپ کے چیک کو چوم کر ماتھے سے لگایا۔ دوبارہ تین فرشی سلام کرتا ہوا دروازے سے باہر نکل گیا۔ مہاراجہ نے دیکھا کہ اس دوران ’’تیموری شہزادے خانساماں قسمت بیگ‘‘ کے آنسو زمین پرگر رہے تھے۔ اسی کتاب کے ایک اور چیپٹر ’’کفنی‘‘ میں محل کی ’’شہزادی مہ جمال‘‘ کو صبح جگانے کی منظرکشی کی گئی ہے۔ سویرے سویرے خاص خادمائیں شہزادی کے بستر کے پاس آتیں اور اُس کے ہاتھ پاؤں پر پھول پھیرتیں۔ شہزادی کہتی ’’گدگدیاں نہ کرو مجھے سونے دو، دیر ہوتی ہے تو کیا کروں، آنکھ کھولنے کو جی نہیں چاہتا‘‘۔ خادمہ کہتی ’’بی بی گدگدیاں میں نے نہیں کیں۔ یہ گلاب کا پھول تمہارے پیروں سے آنکھیں مل رہا ہے‘‘۔ شہزادی کہتی ’’ذرا سندری کو بلاؤ، بانسری بجائے، ہلکے سروں میں بھیرویں سنائے۔ گل چمن کہاں ہے، چپی کرے‘‘۔ خادمہ سندری بانسری بجا رہی تھی کہ شہزادی نے آنکھیں کھول دیں، بالوں کو سمیٹا، مسکرائی۔ خادمہ نرگس نے سلام کیا۔ جواب میں شہزادی نے اُس کے ایک چٹکی لی اور انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھی اور کہا ’’دلشاد! ہم نے نرگس کے چٹکی لی تو یہ ہنسی نہیں، منہ بنالیا۔ تم آؤ، تمہارے کان مروڑوں اور تم ہنسو‘‘۔ خادمہ دلشاد اٹھ کر بھاگی، دور جاکھڑی ہوئی اور کہا ’’لیجئے میں کھلکھلا کر ہنستی ہوں، آپ سمجھ لیجئے کان مروڑ لئے‘‘۔ شہزادی نے پھر ایک نشیلی ادا سے انگڑائی لی، مسکراتی ہوئی طشت چوکی تک گئی اور منہ ہاتھ دھونے لگی۔ جب شاہی محل کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی تو شہزادی اپنی ماں، دو خادماؤں اور چند شاہی محافظوں کے ساتھ ایک ہاتھی رتھ کی پالکی پر فرار ہوئی۔ راستے میں کچھ انگریز اہلکاروں نے محافظوں کو مار ڈالا اور شاہی خواتین سے زیورات چھین لئے۔ ہاتھی رتھ کچھ آگے بڑھا تو ڈاکوؤں نے ان پر حملہ کردیا اور شاہی ہیرے جواہرات کا مطالبہ کیا۔ نہ ملنے پر ڈاکوؤں نے ماں اور خادماؤں کے سرپر ڈنڈے برسائے جن سے وہ ہلاک ہوگئیں۔ شہزادی یہ سب کچھ برداشت نہ کرسکی اور غش کھاکر گرگئی۔ جب اسے ہوش آیا تو وہ ایک چھوٹی سی کٹیا کے احاطے میں ایک سخت بان والی چارپائی پر پڑی تھی۔ اُس چارپائی کے بالکل ساتھ گائے بندھی تھی اور اردگرد مرغیاں اور بطخیں پھررہی تھیں۔ جانوروں اور ان کے گوبر کی بوسے پورا ماحول انتہائی بدبودار ہورہا تھا۔ جونہی اُس نے آنکھ کھولی ایک میلی کچیلی عورت اس کے پاس آئی اور بتایا کہ اُس کا خاوند اسے بیہوش اٹھا کر لایا تھا۔ مہ جمال نے بتایا کہ وہ ’’شہزادی‘‘ ہے۔ غریب عورت نے اسے دلاسا دیا اور کہا ’’اب یہیں رہو‘‘۔ تھوڑے دنوں بعد اُس کٹیا میں آگ لگ گئی۔ وہ عورت اور اس کا خاوند سامان نکالنے کے لئے اندر گئے تو جل کر مرگئے۔ شہزادی پھر اکیلی رہ گئی۔ اسے ایک نمبردار نوکرانی بناکر اپنے گھر لے گیا۔ اس کی دو بیویاں تھیں۔ رات کو ایک بیوی نے دودھ چولہے پر رکھنے کوکہا۔ شہزادی نے پہلے کبھی دودھ چولہے پر نہیں رکھا تھا۔ اُسے ٹھوکر لگی اور دودھ گرگیا۔ مالکن نے آکر جوتیوں اور تھپڑوں سے اس کی بہت پٹائی کی۔ اِس دوران دوسری بیوی نے اُسے اپنے بچے سلانے کوکہا۔ یہ کام بھی اُس کے لئے نیا تھا۔ اِس پربھی اُس کی خوب مارپیٹ کی گئی۔ آخرکار اُس کو جانوروں کے گھاس پھوس کے ڈھیر پر سونے کے لئے دھکا دے دیا گیا۔ جب وہ صبح اٹھی تو شاہی محل کی یاد اُس کے تازہ زخموں کی تکلیف سے زیادہ اذیت ناک تھی۔ ’’شہزادی مہ جمال‘‘ کو سب یاد آرہا تھا کہ کیسے پھولوں کی گدگدی کرکے اسے اٹھایا جاتا؟ کیسے بانسری کے سُروں میں وہ آنکھیں کھولتی؟ کیسے چنبیلی کی پھوار میں وہ انگڑائی لیتی؟ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ کسی بھی سسٹم کو تبدیل کرنے کے لئے ایک بلاامتیاز تفصیلی آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی کے سسٹم کو تبدیل کرنے کے نام پر پہلے بھی بہت دفعہ مخصوص مقاصد کے لئے کمیشن بنے، تخت الٹائے گئے اور سزائیں ہوئیں لیکن کرپٹ سسٹم تبدیل نہ ہوا۔ کیا موجودہ جے آئی ٹی سے ایک اور کتاب ’’بیگمات کے آنسو‘‘ تحریر ہوسکے گی؟ 
کیا جے آئی ٹی سے کتاب ’’بیگمات کے آنسو‘‘ تحریر ہوگی؟ کیا جے آئی ٹی سے کتاب ’’بیگمات کے آنسو‘‘ تحریر ہوگی؟ Reviewed by Khushab News on 2:58:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.