این اے 69 ، محمد علی ساول کے معاملات طے ہوگئے؟

خوشاب نیوز ڈاٹ کام) جنرل(ر) سلیم اعوان مرحوم کے صاحبزادے محمد علی ساول این اے69 سے آئندہ الیکشن 2018لڑنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں ، وہ کس سیاسی جماعت کی طرف سے میدان میں اترینگے ؟ وہ کس کس سے رابطے میں ہیں ؟انکا کس مقامی گروپ سے الحاق ممکن ہے؟یہ ا
www.khushabnews.com
ور اسطرح کے کچھ دیگر سوالات آجکل ضلع خوشاب کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں انکے بارے موضوع بحث بنے ہوئے ہیں اور مختلف چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ایک مقامی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق محمد علی ساول کا کہنا ہے کہ وہ سمیرا ملک اور عمر اسلم اعوان کے ساتھ کسی صورت شامل نہیں ہوسکتے ،ٹوانہ گروپ اور شاکر اعوان گروپ سے رابطے میں ہوں۔ اس وقت اگرچہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد
قومی سیاسی منظر نامے میں بھی بتدریج کئی تبدیلیاں متوقع ہیں اور انکے اثرات مقامی سیاست پر بھی مرتب ہونگے ۔ الیکشن کا انعقاد اگر اپنے مقررہ وقت پر ہوتا ہے تو پھر ابھی اس میں کافی وقت باقی ہے اور حتمی طور پر کچھ بھی کہنا عملی طور پر بہت مشکل ہے۔تاہم موجودہ حالات کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ محمد علی ساول کی نہ تو مسلم لیگ ن میں اور نہ ہی پی ٹی آئی میں کوئی جگہ بنتی ہے کیونکہ ن لیگ میں سمیرا ملک اور پی ٹی آئی مین عمراسلم اعوان پہلے سے موجود ہیں اور اپنی اپنی پارٹیوں میں فی الحال انکی پوزیشن مستحکم نظر آتی ہے۔محمد علی ساول دونوں پارٹیوں میں شمولیت کی کوشش کرچکے ہیں لیکن انہیں اس ضمن میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی بلکہ سمیرا ملک کی نااہلی کے بعد این اے 69میں ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے لیے انکے والد جنرل (ر) سلیم اعوان مرحوم نے حمزہ شہباز سے باقاعدہ ملاقات بھی کی تھی۔رہ گئی بات سمیرا ملک اور عمر اسلم اعوان کے ساتھ انکے نہ چلنے کی تو وجہ اسکی یہ ہے کہ چونکہ یہ سب ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور جائیداد وغیرہ کی تقسیم پر انکے آپس میں شدید نوعیت کے اختلافات موجود ہیں لہذا انکا ملکر چلنا تو مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔اب ٹوانہ گروپ سے انکے رابطوں کی بابت تو یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کیونکہ ٹوانہ گروپ اور سمیرا گروپ میں اتحاد کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور دور دور تک ایسے کوئی آثار بھی نظر نہیں آرہے کہ ٹوانہ گروپ سمیرا ملک کو چھوڑ کر یا ناراض کرکے محمد علی ساول کے ساتھ کوئی انتخابی اتحاد بناپائے لہذاٹوانہ گروپ سے بھی انکا الحاق موجودہ حالات میں عملی طور ممکن نہیں۔البتہ پارلیمینٹیرین گروپ (شاکر اعوان)کے ساتھ انکے رابطوں اور اسکے بعد کسی سیاسی الحاق کی عملی شکل بن سکتی ہے کیونکہ شاکر اعوان گروپ نے این اے69میں ہر صورت میں سمیرا ملک کے امیدوار کی مخالفت کرنا ہے اگرچہ اس حلقے سے شاکر اعوان گروپ کی جانب سے دبے دبے الفاظ میں امیر مختار سنگھا کا نام بھی لیا جاتا ہے لیکن انہین شاید پی پی 41سے میدان میں اتارا جائے۔محمد علی ساول کی شاکر اعوان گروپ سے ممکنہ شراکت میں اگر کوئی تھوڑی بہت رکاوٹ ہو سکتی ہے تو ساول کے ماموں سابق رکن پنجاب اسمبلی تصور علی خان کا شاکر اعوان کے بارے سخت رویہ ہے لیکن اندرون خانہ ایسی چہ مگوئیاں بھی ہورہی ہیں کہ اب یہ برف کافی حد تک پگھل چکی ہے ۔جبکہ تن تنہا بغیر کسی بھی سیاسی پارٹی یامقامی دھڑے کے بغیر این اے 69سے الیکشن میں اترناکسی طور بھی انکے لیے موافق نہیں ہوگا۔ اسطرح محمد علی ساول کے پاس اس وقت جو سب سے بہتر آپشن بظاہر نظر آرہا ہے وہ شاکر بشیر اعوان گروپ سے الحاق کا ہی ہوسکتا ہے تاہم سیاست میں حالات اور وابستگیاں تیزی سے تبدیل ہونا معمول کی بات ہے اور محمد علی ساول کی انتخابی حکمت عملی بارے حتمی طور پر کوئی تجزیہ یا اندازہ لگانا قطعی طور قبل از وقت ہوگا۔
;
این اے 69 ، محمد علی ساول کے معاملات طے ہوگئے؟ این اے 69 ، محمد علی ساول کے معاملات طے ہوگئے؟ Reviewed by Khushab News on 8:13:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.