وادی سون کی خبریں



نوشہرہ وادی سون سے فرحان فاروق اعوان
ہائی سکول اوچھالی کی کارکردگی تسلی بخش
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر محمد کلیم نے گورنمنٹ ہائی سکول اوچھالی کا دورہ کیا انہوں سکول کے احاطہ میں پودا لگانے کے بعد طلباء سے کہاکہ روشن پاکستان کے مستقبل میں زیور تعلیم سے آراستہ طلبا کا اہم کردار ہے انہوں طلبا کی بہترین کارکردگی پر سکول کے اساتذہ اور 
www.khushabnews.com
ہیڈ ماسٹر سلطان اکبر کو سراہا ترقیاتی کاموں جائزہ لیا تسلی بخش قرار دیا بعد ازاں انہوں مقامی تنظیم کے ہمراہ اوچھالی جھیل پر صفائی کی مہم میں شرکت کی اس موقع پر موضع چٹہ اوچھالی کے لوگ بھی شریک تھے محکمہ صحت کی جانب سے جھیل کے کنارے مچھر مار سپرے بھی کیا گیا۔
عوام کی خدمت خاندان کی پہچان ہے،جاوید اعوان
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)ایم پی اے ملک جاوید اقبال اعوان نے کہا ہے کہ ہمارے خاندان کی ضلع خوشاب کی عوام کیلئے خدمات اور علاقائی تعمیروترقی کیلئے جدوجہد کسی تعارف کی متحاج نہیں عوامی خدمت کے جذبہ کی بدولت ہی ہم سیاسی میدان میں حاضر ہیں ہماری سیاست صرف ا
شاکر بشیر کا سمیرا سے رابطہ
ورصرف عوام کی خدمت ہے ان خیالات کا اظہار وہ یونین کونسل پدھراڑ اور رورل ہیلتھ سنٹر میں لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ حلقہ کی عوام کا ہم پر احسان ہے کہ ہمیں ہر الیکشن میں کامیابی سے نوازتے ہیں اس موقع پر مسلم لیگی راہنما ملک مظہر اقبال اعوان ملک مرید حسین ملک منیر ملک اشرف اعوان بھی موجود تھے۔
سستا بازار میں سیکورٹی انتظامات کیے جائیں

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)کسان بورڈ کے صدر ملک اختر اسلام اور پچیس افرادنے شہری دفاع کو محلوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک تحریری درخواست مقامی ،ضلعی اور صوبائی حکومت کو ارسال کی ہے جس میں موقف اختیار کیا ہے کہ وادی سون کے مرکزی شہر نوشہرہ کے گنجان علاقے میں سوموارسستا بازار لگایا جاتا ہے سکیورٹی کے حوالے سے نہ تو انہوں نے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے ہوئے ہیں اور نہ آگ بجھانے کے آلات ہیں اگر خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقع رونما ہوگیا تو بڑی تباہی کا موجب بن سکتا ہے اور نہ ہی سستابازار کے دوکانداروں کا تھانہ یا بلدیہ میں کوئی ریکارڈ ہے اکژیت افغانی باشدوں کی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ سستابازار میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سکیورٹی کیمرے اور آگ بجھانے کے آلات لگوائے جائیں۔





;
وادی سون کی خبریں وادی سون کی خبریں Reviewed by Khushab News on 9:50:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.