آج کا اخبار



خوشاب 23 کروڑ کی ترقیاتی سکیمیں منظور
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمیٹی خوشاب کا اجلاس،23کروڑ کی سکیمیں منظور.فنڈز این اے 69اور این اے 70میں بنیا دی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کئے جائینگے,ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی ضلع خوشاب کا اجلاس ڈپٹی کمشنر امجد بشیر کی زیر صدارت ڈی سی آفس کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا جس میں تمام تعمیراتی محکموں کے ضلعی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 70 اور این اے 69کی میں شہریوں کو بنیا دی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ارکانِ قومی اسمبلی شاکر بشیر اعوان اور ملک عزیر خان کی تجویز کردہ 23کروڑ 50لاکھ روپے کی ترقیاتی سکیموں کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں شرکا کو بتایا گیا کہ حلقہ این اے 70میں چھ کروڑ پچاس لاکھ اور حلقہ این اے 69میں پندرہ کروڑ پچاس لاکھ روپے مختلف علاقوں میں فراہمی و نکاسی آب 145 سڑکوں کی تعمیر اور صحت و تعلیم کی سہولیات کو بہتر بنانے پر خرچ کئے جائیں گے
www.khushabnews.com

تنگدستی سے تنگ شخص نے خود کشی کرلی
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)موضع گولیوالی میں ایک شخص غلام رسول گولے خیل نے گھریلو پریشانیوں سے تنگ آ کر خود کشی کر لی‘ غلام رسول معاشی بدحالی کا شکار تھا گذشتہ روز اُس نے تنگ آ کر اپنے آپ پر فائرنگ کی اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ پولیس نے ضروری کاروائی کے بعد متوفی کی نعش تدفین کیلئے ورثاء کے حوالے کر دی ہے۔
 ڈی سی کا دورہ ہسپتال
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)ڈپٹی کمشنر خوشاب امجد بشیر نے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال جوہرآباد کا دورہ کیا‘ اُنھوں نے ہسپتال کے میڈیکل اور سرجیکل وارڈوں سمیت مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور وہاں پر دستیاب ہیلتھ سروسز کا جائزہ لینے کیساتھ ساتھ وہاں زیر علاج مریضوں سے اُن کے مسائل دریافت کئے۔ اس موقع پر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر قاضی آصف محمود ‘ ڈپٹی ایم ایس ڈاکٹر مختار سرور نیازی اور دیگر افسران بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ ڈپٹی کمشنر خوشاب نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ حکومت کی ہیلتھ پالیسی کے ثمرات عوام تک منتقل کرنے اور مریضوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کرنے کیلئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لائیں۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت پنجاب ہیلتھ سیکٹر پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت کے افسران و ملازمین فرض شناسی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں۔ اس موقع پر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر قاضی آصف محمود نے اُنھیں ہسپتال انتظامیہ کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ 
جوہرآباد(نامہ نامہ نگار )سول لائن جوہرآباد کے رہائشی ایک شخص محمد ریاض اعوان نے جعلسازی کے ذریعے رمضان کالونی کی ایک بیوہ خاتون غلام زرینہ کا ملکیتی مکان اپنے نام منتقل کرا لیا ‘ سٹی پولیس جوہرآباد نے غلام زرینہ کی رپورٹ پر ملزم ریاض اعوان کیخلاف زیر دفعہ 406ت پ مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق غلام زرینہ نے اپنا مکان عارضی طور پر ملزم ریاض اعوان کو دے رکھا تھا اس دوران اُس نے جعلی کاغذات تیار کر کے اُس کی رجسٹری اپنے نام کرا لی۔ 


تجاوازات گرانے والی ٹیم کیخلاف مقدمہ درج
جوہرآباد(نامہ نامہ نگار )غریب کالونی جوہرآباد کی رہائشی ایک خاتون شہناز اختر نے تھانہ سٹی جوہرآباد میں ڈپٹی کمشنر خوشاب کے حکم پر تجاوزات گرانے کیلئے محکمہ ہاؤسنگ کے اوور سیئر محمد شکیل کی سربراہی میں جانے والی ٹیم کے خلاف عفت میں خلل ڈالنے کے الزام میں مقدمہ درج کرا دیا۔ ایف آئی آر کے مطابق محمد شکیل کی سربراہی میں چوکیدار محمد طارق ‘ ڈرائیور محمد ابراہیم اور عاشق حسین غریب کالونی میں تجاوزات گرانے کیلئے گئے وہ ایک دیوار گرا رہے تھے کہ شہناز اختر نے مزاحمت کی جس کے نتیجہ میں اُس کے کپڑے پھٹ گئے۔ 

دوشیزہ اغوا
خوشاب نیوز ڈاٹ کام ) چک نمبر40ڈی بی میں تین افراد محمد شہباز ‘ غلام مصطفی اور نسیم احمد نے ایک 17سالہ لڑکی مسماۃ انیتا کو اغواء کر لیا۔ قائدآباد پولیس نے مغویہ کے نانا امداد علی کی رپورٹ پر ملزمان کے خلاف زیر دفعہ 365-B ت پ مقدمہ درج کر کے اُن کی تلاش شروع کر دی ہے تاہم ابھی تک مغویہ بازیافت نہیں ہوئی۔

کوالٹی کنٹرول بورڈ کا اجلاس
خوشاب نیوز ڈاٹ کام )ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ کا اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل عبدالحمید سنبل کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بورڈ کے سیکرٹری احمد خان‘ چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر نذر حیات مجوکہ ‘ ڈاکٹر محبوب احمد فیضی‘ ڈسٹرکٹ ڈرگ انسپکٹر اور کمیٹی کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ صحت کی جانب سے مختلف ہسپتالوں اور میڈیکل سٹورں کے مرتب کردہ 28چالان زیر بحث لائے گئے۔ اجلاس کے اختتام پر بورڈ کے سیکرٹری احمد خان نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اجلاس میں آٹھ چالان ڈرگ کورٹ فیصل آباد بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پانچ چالانوں پر وارننگ دی گئی ہے جبکہ باقی پندرہ چالانوں کی دوبارہ سماعت ہو گی۔ 

;
آج کا اخبار آج کا اخبار Reviewed by Khushab News on 7:26:00 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.