این اے 70 اور ہی ٹی آئی کا ٹکٹ

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)ضلع خوشاب میں 16ستمبر کو ہونیوالے عمران خان کے ایک بھرپورجلسے سے مسلم لیگ ن کو تو شاید کوئی فرق نہیں پڑاالبتہ پی ٹی آئی جو پہلے ہی دھڑے بندی کا شکار ہے اس جلسے کے بعد اس دھڑے بندی میں شدت کا شکار نظر آرہی ہے 
خاص طور پر این اے 70اور اس سے ملحقہ دو صوبائی حلقے پی ٹی آئی کے ٹکٹوں کے سلسلہ میں سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا میں بھی بھانت بھانت کی بولیا ں اور طرح طرح کی خبریں اور تجزیئے زوروں پر ہیں۔

www.khushabnews.com
اس حوالے سے ضلع خوشاب میں سیاسی ، صحافتی اور عوامی حلقوں میں مختلف چہ مگوئیاں جاری ہیں اور مختلف سوالات گردش کررہے ہیں اور زیر بحث ہیں جو کچھ اسطرح سے ہیں
۔ این اے 70پر پی ٹی آئی کا ٹکٹ کسے ملے گا؟ گل اصغر بگھور، احسان ٹوانہ یا سردار شجاع بلوچ؟
۔پی پی 42پر پی ٹی آئی کا امیدوار کون ہوسکتا ہے؟ 
۔پی پی41سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ ہولڈر کون ہوگا؟
اب ترتیب وار ان سوالوں کے جواب عوامی سطح پر گردش کرنے والی چہ مگوئیوںں کی روشنی میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں
این اے 70 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے لیے میدان میں تین امیدوار نظر آرہے ہیں ، احسان ٹوانہ جو 2013کے الیکشن میں بھی اس حلقے سے نہ صرف پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے خواہشمند تھے اور اس وقت بہت ہی مضبوط امیدوار تھے اور انکا ٹکٹ بھی یقینی تھا لیکن الیکشن سے کچھ ہی عرصہ پہلے اپنے بڑے بھائی اور ضلع کے بزرگ سیاستدان ملک خدا بخش ٹوانہ کی وجہ سے وہ بظاہر بیماری کی وجہ سے الیکشن لڑنے سے ہی دستبردار ہوگئے ۔ماضی میں اس حلقہ سے انکے بھائی ایک بار سے زائد مرتبہ منتخب ہوچکے ہیں اور انکے خاندان کا اس حلقہ میں بہت بڑا ووٹ بنک موجود ہے۔پھر بلدیاتی الیکشن میں سردار شجاع بلوچ کیساتھ ملکر انہوں نے دس کے قریب یونین کونسلوں میں حکومتی امیدواروں کے مقابلے میں زبردست کامیابی حاصل کی اور ضلع کونسل میں ایک معقول تعداد کی صورت میں اپنی سیاسی وجود کا احساس دلاتے نظر آتے ہیں۔سیاسی اور عوامی حلقوں میں احسان ٹوانہ کو بہرحال ایک مضبوط امیدوار خیال کیا جاتا ہے ۔ پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملنے کی صورت میں وہ ایک سخت ترین مقابلے کی فضا بناسکتے ہیں۔ لیکن احسان ٹوانہ کا پی ٹی آئی کے اعلی حلقوں مین منفی پہلو جو انکے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجاتا نظر آتا ہے وہ انکے بڑے بھائی خدا بخش ٹوانہ کی سیاست ہے کیونکہ پی ٹی آئی قیادت تحفظات کا شکار ہے کہ اس بار بھی ماضی کی طرح اپنے بھائی کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ کسی بھی مرحلے پر پیچھے ہٹ سکتے ہیں جس کی پی ٹی آئی کسی بھی صورت متحمل نہیں ہوسکتی۔

اور اس طرح 2013میں حلقہ این اے سترسے احسان ٹوانہ جیسے مضبوط امیدوار کے پیچھے ہٹنے سے جہاں پی ٹی آئی کو شدید جھٹکا لگا وہیں پر خلا بھی پیدا ہوگیا چنانچہ گل اصغر بگھور جو کہ ضلع خوشاب کے منظر نامے پراسوقت تک ایک این جی او کے پلیٹ فارم سے بطور سماجی کارکن نمودار ہورہے تھے موقع غنیمت جانتے ہوئے فوری طور پر آگے بڑھے اور پی ٹی آئی میں شامل ہوکر این اے 70 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر میدان میں کود پڑے۔انہوں نے این اے 70سے 38ہزار کے لگ بھگ ووٹ حاصل کیے جن میں پی پی 42(انکا آبائی علاقے تھل پر مشتمل)سے پانچ ہزار کے قریب اور پی پی 41(خوشاب، جوہرآباد،ہڈالی وغیرہ پر مشتمل )33ہزار کے قریب جبکہ اسی حلقہ پی پی 41 سےپی ٹی آئی کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار کو محض چھ ہزار ووٹ مل سکے تھے۔یہ صورتحال گل اصغر کے لیے انتہائی حوصلہ افزا جبکہ سیاسی حلقوں کے لیے کافی حد تک غیر متوقع تھی۔لیکن الیکشن کے بعد گل اصغر بگھور اپنے حلقے سے غائب ہونے میں روائتی سیاستدانوں سے بھی آگے نکل گئے اور حلقہ کی عوام نے انہیں پھر بل بورڈز کے علاوہ کہیں نہیں دیکھا۔بلدیاتی الیکشن میں یہ پھر اچانک نمودار ہوئے اور اپنے بھائی کو اپنی آبائی یونین کونسل آدھی کوٹ سے میدان میں اتار دیا چونکہ گل اصغر ایک انتہائی مالدار شخص کی شہرت رکھتے ہیں اور خود بھی اسکے اظہار اور ذکر پر فخر محسوس کرتے ہیں لہذا انہوں نے اپنے بھائی کے الیکشن میں پانی کی طرح پیسہ بہایا لیکن وہ یہ سیٹ بری طرح ہارگئے۔ البتہ 2013کے بعد گل اصغر بگھور جو کہ اسلام آباد میں مقیم ہیں پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ اپنے مراسم کو کافی بہتر بنانے میں کامیاب رہے۔البتہ گل اصغر بگھور نے 2013میں جو پذیرائی حاصل کی تھی انکے غائب ہونے کی وجہ سے عوام کی شدید ناراضگی میں بدل گئی ۔اب 16ستمبر کو ہونے والے عمران خان کے جلسے سے قبل انہوں نے جوہرآباد میں ایک گھر خریدا اور اور پھر کی سوشل میڈیا اور میڈیا میں خوب تشہیر بھی کرائی کہ یہ مہنگا گھر عمران خان کی میزبانی کے لیے خریدا گیا ہے ۔یہاں پر کچھ دیر کے لیے عمران خان رکے بھی اور انہوں نے کھانا بھی کھایا۔جس کے بعد گل اصغر بگھور کیمپ کی جانب سے این اے70سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ کا کنفرم ہونے کا شدت سے تاثر دیا جارہا ہے۔پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملنے کی صورت میں بھی گل اصغر بگھور کے لیے شاید2013میں حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد کو چھونا ممکن نہ ہو سکے۔ پی ٹی آئی کی ایک صوبائی سطح کی ٹیم اپنی ایک پورٹ میں اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرچکی ہے۔
این اے 70سے پی ٹی آئی ٹکٹ کے تیسرے امیدوار سردار شجاع خان بلوچ ہیں جو ماضی میں یہاں سے ایم این اے بھی رہ چکے ہیں اور 2013کے الیکشن میں خدا بخش ٹوانہ اتحاد کے امیدوار طور پر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑے تھے اور انہوں نے 64 ہزار سے زائدووٹ حاصل کیے تھے۔سردار شجاع بلوچ کا تھل کے علاوہ خوشاب جوہرآباد میں بھی ایک دھڑا اور ووٹ بنک بہرحال موجود ہے ۔بلدیاتی الیکشن میں ٹوانہ اتحاد کی شکل میں انکی کاکردگی بہتر رہی ۔پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملنے کی صورت میں لامحالہ انکے پچھلے الیکشن میں بطور آزاد امیدوار حاصل کردہ ووٹوں میں اضافے کا باعث ہی بنے گا۔
اب رہی بات پی پی 42سے پی ٹی آئی ٹکٹ کے لیے صوبائی اسمبلی کے امیدوار کی تو اس حلقہ سے باضابطہ ابھی تک کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں البتہ پچھلے کچھ ماہ سے احسان ٹوانہ نے اس حلقہ کو اپنی عوامی رابطہ مہم کا محور و مرکز بنایا ہو ا ہے ۔لیکن دعوی وہ بھی ہر صورت میں این اے ستر سے الیکشن لڑنے کا ہی کرتے ہیں۔
پی پی41سے پی ٹی آئی ٹکٹ کے لیے حامد محود وڈھل، مہر انور ایڈووکیٹ اور حماد ظہور آہیر باضابطہ خواہشمند ہیں۔حامد محمود وڈھل نے تو زور و شور سے میڈیا مہم بھی چلارکھی ہے۔
احسان ٹوانہ، گل اصغر بگھوراو سردار شجاع بلوچ کے حمائتییوں کی جانب سے اپنے اپنے امیدوار کو این اے 70کا سب سے مضبوط اور موزوں امیدوار قرار دینا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ وہ دیگر دو امیدواروں کو گھما پھرا کر پی پی 42اور پی پی41کے لیے موزوں کیوں قرار دے رہے ہیں عوامی حلقوں جاری چہ مگوئیوں کے مطابق وجہ اسکی یہ بیان کی جارہی ہے کہ پی پی بیالیس پر وارث کلو اور پی پی 41میںآصف بھا کی صورت میں حکمران جماعت کے ہیوی ویٹ پہلوان موجود ہیں اور پی ٹی آئی کے متذکرہ تینوں امیدوار خود کو قومی حلقہ پر رکھتے ہوئے باقی دو کو ان ہیوی ویٹ کے سامنے رنگ میں دھکیلنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔لیکن اسکے ساتھ ساتھ چہ مگوئیاں یہ بھی ہیں کہ این اے ستر سے حکمران جماعت کے مسلسل دو مرتبہ کامیاب ہونے والے ملک شاکر بشیر اعوان بھی کوئی کمزور امیدوار ہر گز نہیں البتہ انکے ساتھ پی ٹی آئی کے مقابلے کی واحد صورت اسطرح ہی بن پائے گی کہ مقابلہ ون ٹو ون ہو اور ٹکٹ سے محروم رہ جانے والے باقی دو بھی ہر طرح سے اپنے ٹکٹ ہولڈر کو سپورٹ کریں ۔ شاکر بشیر اعوان کے مقابلے میں ایک سے زائد امیدوار ہونے کی صورت میں مد مقابل کی جیت تو درکنار مقابلے کی فضاء بھی نہیں بن پائے گی۔

نوٹ : خوشاب نیوز نے مختلف عوامی ، سیاسی ، سماجی حلقوں کی آراء کی روشنی میں نیک نیتی سے موجودہ صورتحال قارئین کی دلچسپی کی خاطر انکے سامنے رکھی ہے تاہم قومی ، علاقائی یا مقامی سیاسی حالات میں تیزی سے تبدیلیاں متوقع ہوتی ہیں جس سے صورتحال اور اندازے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
;
این اے 70 اور ہی ٹی آئی کا ٹکٹ این اے 70 اور ہی ٹی آئی کا ٹکٹ Reviewed by Khushab News on 10:46:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.