قرضے معاف کرانیوالوں کیخلاف بھی سخت کارروائی کی جائے، سراج الحق

خوشاب نیوز ڈاٹ کام) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر مولانا سراج الحق نے کہا ہے کہ آئین سے عقیدہ ختم نبوت کی شق کبھی ختم نہیں ہو سکتی‘ قادیانیوں کی حمایت میں رانا ثناء اﷲ کا  بیان غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے جس سے قوم میں غم و غصہ کی لہر سرائت کر گئی ہے۔ کرپٹ مافیا کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک وطن عزیز سے دولت لوٹ کر باہر منتقل کرنے والوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔ وہ ڈسٹرکٹ پریس کلب جوہرآباد کے گراؤنڈ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ جس میں ضلع
www.khushabnews.com
 بھر سے جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنوں اور حامیوں نے شرکت کی۔ جلسہ سے جماعت اسلامی کے راہنماؤں میاں مقصود احمد ‘ مولانا جاوید قصوری‘ زبیر احمد گوندل ‘ مولانا فداء الرحمن ‘ زاہد محمود اور ملک تنظیر الحسن اعوان نے بھی خطاب کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئین پاکستان سے عقیدہ ختم نبوت کے خاتمے کا خواب دیکھنے والے اپنے ناپاک ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ قوم بیدار بھی ہے اور ہوشیار بھی ہے‘ معاشرتی انقلاب کی بنیاد سیرت النبی ؐ ہے‘ اُمت مسلمہ آج جن مسائل کا شکار ہے ان سے نجات کیلئے واحد راستہ سیرت النبیؐ پر 

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو خوشاب کی روائتی پگڑی پہنائی گئی

عمل کرنا ہی ہے۔ اسوۂ حسنہ کو اپنائے بغیر شخصی یا قومی انقلاب نہیں آ سکتا۔ اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانیت کے متعلق شق میں تبدیلی کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں حکومت ‘ حزب اختلاف ‘ عدلیہ سمیت تمام مکاتب فکر کی شخصیات شامل ہوں اور جو بھی ذمہ دار قرار پائے اسے عبرتناک سزا دی جائے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر نے کہا کہ کرپشن کا ایک بڑا بت زمین بوس ہو چکا ہے لیکن ہماری کرپشن کے خلاف جدوجہد ایک فرد یا خاندان کے خلاف نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام لٹیروں سے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے۔ مولانا سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی کرپٹ مافیا کے ساتھ ساتھ قرضے لے کر معاف کرانیوالوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اُنھوں نے جماعت اسلامی کے کارکنوں پر بھی زور دیا کہ وہ عام انتخابات کی تیاری کریں۔ جب تک اس ملک میں ا
سلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوتا اور اس گلے سڑے کرپٹ نظام کو بدلا نہیں جاتا اس وقت تک عام شہری کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک میں لاقانونیت ‘ بیروزگاری اور غربت عروج پر ہے امیر ‘ امیر تر ہو رہے ہیں جبکہ غریبوں کے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔ امیر لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کیلئے بیرونِ ممالک بھجوا دیتے ہیں جبکہ غریبوں کے بچے سرکاری سکولوں میں جانے سے بھی محروم ہیں۔ حکمران عیاشیاں کر رہے ہیں اور اربوں روپے اپنے غیر ذمہ دارانہ دوروں پر صرف کر رہے ہیں جو قوم کے پیسے کا ضیاع ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ عدالت عظمیٰ انگریزوں کے قانون کی بجائے قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق فیصلے کر کے ملک کی تقدیر کو سنوارے۔ قبل ازیں جب جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق ضلع خوشاب کی حدود میں داخل ہوئے تو اُنھیں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے جلوس میں جلسہ گاہ تک لایا گیا۔ 

;
قرضے معاف کرانیوالوں کیخلاف بھی سخت کارروائی کی جائے، سراج الحق  قرضے معاف کرانیوالوں کیخلاف بھی سخت کارروائی کی جائے، سراج الحق Reviewed by Khushab News on 6:56:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.