مصالحتی عدالتوں سے مقدمات کا بوجھ کم ہوگیا

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج  مشتاق احمد تارڑ نے کہا ہے کہ مصالحتی عدالتوں کے قیام سے نہ صرف عام نوعیت کے مقدمات کو باہمی رضا مندی سے نمٹانے میں آسانی پیدا ہوئی ہے بلکہ ان عدالتوں کے باعث عدلیہ پر مقدمات کا بوجھ بھی کم ہو گیا ہے میڈیا اور وکلاء کی ذمہ داری ہے کہ عوام الناس کو مصالحتی عدالتوں کے اغراض و مقاصد سے روشناس کرائیں۔ اُنھوں نے ان خیالات کا اظہار مصالحتی عدالتوں کے حوالے
www.khushabnews.com
 سے وکلاء اور صحافیوں کو دی گئی بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیشن جج غفار مہتاب شاہ ‘ سینئر سول جج راجہ مبین احمد ‘مصالحتی کورٹ کے انچارج سلیمان آصف ‘ پنجاب بار کونسل کے رُکن ملک حبیب نواز ٹوانہ‘ ڈسٹرکٹ بار کے صدر سید اظہر عباس ہمدانی اور جنرل سیکرٹری سید مسرت شاہ بھی موجود تھے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خوشاب نے بتایا کہ جب تک عوام الناس میں مصالحتی عدالتوں سے رجوع کا شعور پیدا نہ ہو اُس وقت تک یہ عدالتیں موثر کردار ادا نہیں کر سکتیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ان عدالتوں کے قیام سے عوام میں اعتماد پیدا ہوا ہے۔ اور ان عدالتوں کے قیام کے کرردار کو مزید موثر بنانے کیلئے بہت جلد ایک ورکشاپ بھی منعقد کی جائے گی۔ اس موقع پر مصالحتی کورٹ کے انچارج سلیمان آصف نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ عدالتیں یکم جون 2017ء سے فعال ہوئی ہیں اب تک اس عدالت میں 127کیسز آئے جن میں سے 79 کیسز میں مصالحت کرا دی گئی۔ ہماری عدالت کے فیصلوں کی شرح 67فیصد ہے۔ 
;
مصالحتی عدالتوں سے مقدمات کا بوجھ کم ہوگیا مصالحتی عدالتوں سے مقدمات کا بوجھ کم ہوگیا Reviewed by Khushab News on 8:19:00 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.