پہلی بازی میں ہی مات!!!

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)پاکستان تحریک انصاف ضلع خوشاب میں اختلافات اور اندرونی گروپ بندیاں 2013سے موجود ہیں ۔ پارٹی قیادت اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ان اختلافات کو ختم کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور اور ان چار سالوں میں ملک مسعود کنڈان ، ملک مزمل
www.khushabnews.com
 اعوان، اور محترمہ جویریہ ظفر آہیر سمیت تین ضلعی صدور اختلافات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور اب گل اصغر بگھور چوتھے صدر نامزد کیے گئے ہیں ۔اگرچہ ضلعی صدر کی نامزدگی کا اعلان ہوتے ہی گل اصغر بگھور کو پی ٹی آئی ضلع خوشاب سے تعلق رکھنے والی تمام شخصیات ، عہدیداروں اور کارکنوں نے بلا امتیازمبارکباد کے پیغامات اور نیک خواہشات کا اظہا ر کیا ۔جس سے یہ تاثر ابھر ا کہ شاید اب ضلع میں پی ٹی آئی متحد ہو نے جارہی ہے لیکن یہ تاثر دوسرے روز ہی اس وقت بھک سے اڑ گیا جب گل اصغر بگھور نے اپنی رہائش گاہ پر ایک بڑے اجتماع ، پارٹی میٹنگزو پریس کانفرنس کا انعقاد کیا ۔انکی طرف سے دعوت کے باوجود ضلع بھر سے احسان ٹوانہ، سردار شجاع بلوچ، ملک عمر اسلم اعوان، ملک حسن اسلم اعوان،ملک حامد محمود وڈھل سمیت کسی الیکٹیبل نے شرکت نہیں کی ۔اور سیاسی، صحافتی اور عوامی حلقوں میں ایک بار پھر پی ٹی آئی ضلع خوشاب میں اختلافات کی شدت و مستقبل بارے چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔البتہ پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کے رہنماوں اور سابقہ عہدیداروں و کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔گل اصغر بگھور نے بھی نظریاتی گروپ کے نام سے پہچان رکھنے والے سابقہ عہدیداروں کو نئے عہدے دینے اور پارٹی اختلافات ختم کرانے کے لیے دومصالحتی کمیٹیاں بنانیکا اعلان کیا ۔پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے اختلافات ختم کرانے کے لیے عاصم خان نیازی کی سربراہی میں جبکہ الیکٹے بلز کے اختلافات ختم کرانے کے لیے ملک حماد آہیر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ان مصالحتی کمیٹیوں سے کسی بریک تھرو یا بڑی امید رکھنا مناسب نہیں۔پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق گل اصغر بگھور بھی دراصل سابق صدر محترمہ جویریہ ظفر آہیر کا تسلسل ہیں اس لیے چہرے کی تبدیلی کے علاوہ کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، ضلعی صدر نامزدگی کے فوراً بعد گل اصغر بگھور کو پی ٹی آئی ضلع خوشاب کے دفترمیں آنا چاہیے تھا اور ضلعی دفتر میں ہی پارٹی میٹنگز بلانا چاہیے تھیں لیکن اسکے برعکس انہوں نے ذاتی رہائش گاہ پر پارٹی میٹنگز بلائی جس کو اچھانہیں سمجھا گیا بلکہ ضلعی صدارات کی آڑ میں اپنی ذاتی تشہر و دھاک بٹھانے کی کوشش کے طور پر لیا گیا کیونکہ گل اصغر بگھور بذات خود پارٹی میں اختلافات کی بڑی وجہ سمجھے جاتے ہیں ۔گل اصغر بگھور کی بلائی گئی پریس کانفرنس میں غیر ضروری تاخیر اور انکا صحافیوں سے بے اعتنائی پر مبنی رویہ صحافیوں سے بدمزگی کاباعث بنا اور اس کا احساس ہوتے ہی انہیں بعد میں کچھ سینئر صحافیوں کو فون کرکے اپنے رویہ پر معذرت کرنا پڑی۔گل اصغر بگھور کی بطور ضلعی صدر نامزدگی کو بعض حلقوں نے این اے 70سے بطور امیدوار انکی دستبرداری اور ملک احسان ٹوانہ و سردار شجاع بلوچ سے کسیً ڈیل کا حصہ قرار دیا مگر گل اصغر بگھور کی رہائش گاہ پر ان الیکٹیبلز کے نہ آنے سے ایسی کسی بھی ڈیل کا تاثر زائل ہوگیا۔اور یہ بالکل واضح ہوگیا ہے کہ پی ٹی آئی ضلع خوشاب میں شدید نوعیت کے اختلافات بدستور موجود ہیں اور انکے رہنے یا مزید شدید ہونے کا امکان ہے کیونکہ گل اصغر بگھور کے انتہائی قریبی خاندانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ این 70کے لیے پی ٹی آئی کا ٹکٹ گل اصغر بگھور کو قیادت نے کنفرم کردیا ہے اور انہیں ضلعی صدر بھی اسی لیے نامزد کیا گیا ہے کہ ضلع میں الیکشن سے قبل اپنی مرضی کی ٹیم تشکیل دے لیں۔ اس بارے آئندہ چندروز میں بالکل واضح ہوجائے گا جب اگلے دو روز بعد دونوں مصالحتی کمیٹیاں اپنی اپنی رپورٹس ضلعی صدر گل اصغر بگھور کو پیش کرینگی۔ لگتا ایسا ہے کہ سیاست کے پرانے کھلاڑیوں نے نئے کھلاڑی کو پہلے ٹیسٹ میں ہی مشکل سے دوچار کردیا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ گل اصغر بگھور پی ٹی آئی ضلع خوشاب کے تنظیمی و الیکٹیبلز کے اختلافات ختم کرپاتے ہیں یا سابقہ تین صدور کی مانند وہ بھی اندرونی گروپ بندی کا شکار ہونے والے چوتھے ناکام صدر ثابت ہوتے ہیں۔
;
پہلی بازی میں ہی مات!!! پہلی بازی میں ہی مات!!! Reviewed by Khushab News on 8:22:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.