ضلع خوشاب 5 حلقوں پر کتنے امیدوار سامنے آگئے


خوشاب نیوز ڈاٹ کام)ضلع خوشاب کی قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی تینوں نشستوں کیلئے 52امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کرادیئے ۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 93کیلئے مسلم لیگ ن سے وابستہ 4امیدواروں محترمہ سمیرا ملک، ملک مظہر اعوان ، ملک اظہر اعوان ، چوہدری شجاع الرحمن ٹیپو، پی ٹی آئی کے ملک عمر اسلم اعوان پیپلز پارٹی کے آغا نسہم عباس، اے این پی کے بہادر خان اور آزاد امیدوار محمد علی ساول نے کاغذات جمع کرائے ۔ حلقہ این اے 94سے کاغذات نامزدگی داخل کرانے والوں میں مسلم لیگ ن کے پانچ امیدوار محترمہ سمیرا ملک ، ملک شاکر بشیرا عوان، ڈاکٹر غوث محمد نیازی، ملک عمران بشیر اعوان، ملک عزیر اشرف اعوان، پی ٹی آئی کے انجینئر گل اصغر بگھور ، ملک احسان اللہ ٹوانہ اور پیپلزپارٹی کے قاضی غیاث دین شامل ہیں ۔ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 82سے مسلم لیگ ن کے دو امیدواروں ملک کرم الہیٰ بندیال ، ملک نذر الہیٰ بندیال ، پی ٹی آئی کے چار امیدواروں ملک فتح خالق بندیال ، ملک فیصل خالق بندیال، الحاج صالح محمد گنجیال ، ملک شیر عالم گنجیال اور تحریک لبیک یارسول اللہ کے امیدوار ڈاکٹر ناصر خان اعوان نے کاغذات جمع کرائے۔ حلقہ پی پی 83سے کاغذات جمع کرانے والوں کی تعداد 14ہے جن میں مسلم لیگ ن کے ملک محمد آصف بھاء، سیف اللہ خان، پی ٹی آئی کے ملک حامد محمود وڈھل، ڈاکٹر عزیز الرحمن، انجینئر گل اصغر بگھور ، اے این پی کے بہادر خان ، پیپلزپارٹی کے سردار انور خان بلوچ ، ق لیگ کے ملک الیاس اعوان، تحریک لبیک یارسول اللہ کے دلدار حسین رضوی ، آزاد امیدوار غلام رسول سنگھا، امیر مختار سنگھا، ملک ظفراللہ بالی، محمد سلیم اقبال اور شازیہ کوثر شامل ہیں ۔ حلقہ پی پی 82سے جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ان میں مسلم لیگ ن کے ملک محمد وارث کلو، ملک معظم وار ث کلو ،ملک کرم الہیٰ بندیال، پی ٹی آئی کے سردار شجاع خان بلوچ، انجینئر گل اصغر بگھور ، سردار علی حسین بلوچ، متحدہ مجلس عمل کے ملک محمد وارث جسرہ ایڈووکیٹ ، تحریک لبیک یارسول اللہ کے مفتی شیر محمد سیالوی، آزاد امیدوار رانا محمد خالد، رانا محمد طاہر، عمران فاروق، انور کمال، مدثر اقبال اور محمد حسنین جوئیہ شامل ہیں
;
ضلع خوشاب 5 حلقوں پر کتنے امیدوار سامنے آگئے ضلع خوشاب 5 حلقوں پر کتنے امیدوار سامنے آگئے Reviewed by Khushab News on 7:53:00 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.