فلسفہ شہادت حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ

 ڈاکٹر حافظ محمد ثانی
 نواسۂ رسولؐ، جگر گوشۂ علیؓ و بتولؓ‘ شہیدِ کربلا‘ سیّدنا حسین ابنِ علیؓ کی ذاتِ گرامی حق و صداقت‘ جرأت و شجاعت‘ عزم و استقلال‘ ایمان و عمل‘ ایثار و قربانی، تسلیم و رضا‘ اطاعتِ ربّانی‘ عشق و وفا اور صبر و رضا کی وہ بے مثال داستان ہے، جو پوری اسلامی تاریخ میں ایک منفرد مقام، تاریخ ساز اہمیت کی حامل ہے۔ مستند تاریخی روایات کے مطابق رجب 60ھ/ 680 ء میں یزید نے اسلامی اقدار اور دین کی روح کے منافی ظلم، جبر و استبداد پر مبنی اپنی حکومت کا اعلان کیا۔ بالجبر عام مسلمانوں کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا گیا۔
 مدینۂ منوّرہ میں ایک مختصر حکم نامہ جاری ہوا، جس میں تحریر تھا، ’’حسینؓ‘ عبداللہ بن عُمرؓ اور عبداللہ بن زبیرؓ کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا جائے‘ اس معاملے میں پوری سختی سے کام لیا جائے، یہاں تک کہ یہ لوگ بیعت کرلیں۔‘‘ (ابنِ اثیر/ الکامل 3/ 263)۔ بعد ازاں، دیکھنے والوں نے دیکھا کہ سرکارِ دوجہاںؐ کے نورِ نظر، سیّدنا حسینؓ ابنِ علیؓ اپنے جدِّ اعلیٰ حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ اور اپنے نانا سیّد الانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ کی اتّباع میں یزید کے ظلم و جبرپر مبنی باطل نظام کے خلاف جرأتِ اظہار اور اعلانِ جہاد بلند کرتے ہوئے اُسوۂ پیمبری پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ امّتِ مسلمہ کو حق و صداقت اور دین پر مرمٹنے کا درس دیتے ہیں۔ خلقِ خدا کو اپنے ظالمانہ قوانین کا نشانہ بنانے والی اور محرّماتِ الٰہی کو توڑنے والی حکومت کے خلاف صدائیاحتجاج بلندکرتے ہوئے ببانگِ دہل فرماتے ہیں، ’’لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے ظالم‘ محرّماتِ الٰہی کو حلال کرنے والے‘ خدا کے عہد کو توڑنے والے‘ اللہ کے بندوں پر گناہ اور زیادتی کے ساتھ حکومت کرنے والے بادشاہ کو دیکھا اور قولاً و عملاً اسے بدلنے کی کوشش نہ کی، تو اللہ کو حق ہے کہ اس شخص کو اس ظالم بادشاہ کی جگہ دوزخ میں داخل کردے‘ آگاہ ہوجاؤ! ان لوگوں نے شیطان کی حکومت قبول کرلی ہے‘ اور رحمن کی اطاعت چھوڑ دی ہے‘ مُلک میں فساد پھیلایا ہے‘ حدود اللہ کو معطّل کردیا ہے، یہ مالِ غنیمت سے اپنا حصّہ زیادہ لیتے ہیں۔ انہوں نے خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کردیا ہے اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کردیا ہے۔ اس لیے مجھے اس کے بدلنے کا حق ہے‘‘۔ (ابنِ اثیر / الکامل فی التّاریخ 4/ 40)۔

چناچہ  یہی وہ سب سے بڑاجہاد اور دینی فریضہ تھا، جس کی ادائیگی کے لیے نواسۂ رسولؐ‘ سیّدنا حسینؓ ابن علیؓ اُسوۂ پیمبری کی پیروی میں وقت کے ظالم و جابر حاکم، یزید کے خلاف ریگ زارِ کرب و بلا میں72 نفوسِ قدسیہ کے ہم راہ وارد ہوئے اور حق و صداقت اور جرأت و شجاعت کی وہ بے مثال تاریخ رقم کی‘ جس پر انسانیت ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔ حق کے متوالے، باطل قوّتوں کے خلاف صف آرا مردانِ حق اس راستے پر ہمیشہ چلتے رہیں گے۔ یہ ایک تاریخی اور ابدی حقیقت ہے کہ شہدائے کربلا نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے جرأتِ اظہار اور باطل کے خلاف احتجاج اور جہاد کا ایک سلیقہ اور ولولہ عطا کیا۔ سیّدنا حسینؓ ابنِ علیؓ کی صدائے حق نے مظلوم انسانیت کو ظالمانہ نظام کے خاتمے کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ اور حق نوائی کا درس دیا۔ حق کی آواز بلند کرنا‘ انسانی اقدار کا تحفّظ اور دین کی سربلندی، دراصل اُسوۂ پیمبری اور شیوۂ شبّیری ہے۔ شہدائے کربلا کا فلسفہ اور پیغام یہی ہے کہ حق کی سربلندی اور باطل کی سرکوبی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔


نواسۂ رسولؐ، جگر گوشۂ علیؓ و بتولؓ‘ شہیدِ کربلا‘ سیّدنا حسین ابنِ علیؓ نے رحمٰن و رحیم پاک پروردگار کے حضور اپنی آخری مناجات میں فرمایا، ’’اے معبودِ برحق، اے صاحبِ مغفرت اور بلندمرتبت، اے شدید غضب والے، تیری قدرت ہر قدرت سے بڑھ کر ہے، تُو اپنی مخلوق سے بے نیاز ہے،تیری کبریائی ہر شے پر چھائی ہوئی ہے۔ تُو اِس پر قادر ہے کہ جو چاہے انجام دے، تیری رحمت اپنے بندوں سے نزدیک تر ہے، تیراوعدہ سچاہے، تیری بخشش ہر سُو پھیلی ہوئی ہے۔ اپنی مخلوقات پر تیری مکمل گرفت ہے، جو کوئی توبہ کرے، تُو اس کی توبہ قبو ل کرنے والا ہے، تُو جو ارادہ کرے، اُسے انجام دینے پر قدرت رکھتا ہے اور جو چاہے حاصل کرسکتا ہے۔ تیرا شکر ادا کیا جائے، تو شُکر گزاری قبول کرتا ہے اور جب تیرا ذکر ہو، ذکر کرنے والے کو یاد رکھتا ہے۔ مَیں تجھے ایسی حالت میں پکار رہا ہوں کہ تیری مدد کی مجھے ضرورت ہے اور ایسی حالت میں تیری جانب میری توجّہ ہے کہ سخت آزمائش اور ابتلاء میں ہوں۔ اِس حزن و الم میں، مَیں تجھے پکار رہا ہوں اور تیرے سامنے اپنے درد و غم کے لیے گریہ و زاری کرتا ہوں اور کمزوری کے عالم میں تجھ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں۔

تجھ ہی پر میرا انحصار ہے اور تُو ہی میرے لیے کافی ہے …پس اے پروردگار، ہمارے لیے مدد اور راہِ نجات عطا کر۔ اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والے‘‘۔ بعدازاں، شہیدِ کربلا، امام حسینؓ نے اپنی مناجات ان جملوں پر ختم کی، ’’صبراً علیٰ قضاۂ‘‘۔ بارالٰہا،ہم تیری قضا و قدر کے سامنے صابر و شاکر ہیں۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اے فریاد کرنے والوں کے فریاد رس، تیرے سوا میرا کوئی پالنہار نہیں اور نہ ہی کوئی معبود ہے، مَیں تیرے حُکم پر صبر کرنے والا ہوں۔ اے اُس کی مدد کرنے والے، جس کا کوئی مدد گار نہ ہو، اے ہمیشہ زندہ رہنے والے، جس کا کوئی اختتام نہیں، اے مُردوں کو زندہ کرنے والے اور ہر ایک کے اعمال کے مطابق اُس کا حساب کرنے والے تُو ہی میرے اور اِن (لوگوں) کے درمیان فیصلہ فرما، اور تُو ہی فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ پھر آپ نے اپنی جبین ِ نیاز خاک ِکربلاپر رکھ کر فرمایا، ’’بِسمِ اللہِ و بِاللِّٰہ وفی سبیلِ اللہِ وَعلیٰ ملّۃِ رسول اللہ‘‘۔ اور حالتِ سجدہ میں اپنی جان، جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ ایسا سجدہ کیا کہ جس پرتا ابد سجدوں کو ناز رہیگا۔ شہادتِ 
عظمیٰ کے ایسے بلند مراتب پر فائز ہوئے، جو شہادتوں کیلیے سرمایۂ افتخار ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ تاریخ انسانی کی دو قربانیاں پوری تاریخ میں منفرد مقام اور نہایت عظمت و اہمیت کی حامل ہیں، ایک امام
 الانبیاء، سیّد المرسلین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ ﷺ کے جدِ اعلیٰ حضرت ابراہیمؑ و اسمٰعیلؑ کی قربانی اور دوسری نواسۂ رسولؐ، جگر گوشۂ علیؓ و بتولؓ شہیدِ کربلا حضرت امام حسینؓ کی قربانی۔ دونوں قربانیوں کا پس منظر غیبی اشارہ اورایک خواب تھا، دونوں نے سرتسلیم جُھکا دیا اور یوں خواب کی تعبیر میں ایک عظیم قربانی وجود میں آئی۔ روایت کے مطابق جب سیّدنا حسین ابنِ علیؓ اپنے جاں نثاروں کے ساتھ کربلا کی جانب روانہ ہوئے اور روکنے والوں نے آپ کو روکنا چاہا، تو آپ نے تمام باتوں کے جواب میں ایک بات فرمائی، ’’مَیں نے (اپنے نانا) رسول اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے، آپؐ نے تاکید کے ساتھ مجھے ایک دینی فریضہ انجام دینے کا حکم دیا ہے، اب بہرحال میں یہ فریضہ انجام دوں گا، خواہ مجھے نقصان ہو یا فائدہ۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ وہ خواب کیا ہے؟ آپؓ نے فرمایا، ابھی تک کسی کو نہیں بتایا، نہ بتائوں گا، یہاں تک کہ اپنے پروردگار عزّوجل سے جاملوں‘‘ (ابنِ جریر طبری 5/388، ابن کثیر/البدایہ والنہایہ 8/168)۔ ابراہیمؑ کے خواب کی تعبیر دس ذی الحجہ کو پوری ہوئی اور سیّدنا حسینؓ کا خواب دس محرم 61ھ کو تعبیر آشنا ہوا، دونوں خوابوں کی تعبیر قربانی تھی، دس ذی الحجہ کو منیٰ میں یہ خواب اپنے ظاہر میں رُونما ہوا اور دس محرم کو سرزمین کربلا پر اپنی باطنی حقیقت کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔

یوں باپ نے جس طرزِ قربانی کا آغاز کیا تھا، تسلیم و رضا اور صبر و وفا کے پیکر فرزند نے پوری تابانیوں کے ساتھ اس عظیم سنّت کو مکمل کیا۔ حضرت اسماعیلؑ سیجس سنّت کی ابتدا ہوئی تھی، سیّدنا حسینؓ پر اُس کی انتہا ہوئی۔ سیّدنا ابراہیمؑ و اسماعیلؑ اور حضرت حسینؓ کی قربانیوں میں یہی جذبۂ عشق و محبت کارفرما تھا۔ اسی لیے یہ قربانیاں آج تک زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گی۔ شہدائے کربلاؓ کے قافلہ سالار امام حسینؓ اور ان کے رفقاء معرکۂ حق و باطل، اعلیٰ انسانی اقدار کی بقا میں حق و صداقت اور جرأت و شجاعت کا علَم بلند کر کے، اپنے رب کی رضا، اعلیٰ انسانی اقدار کی بقا، دین مبین کی سربلندی اور شریعتِ مصطفٰیؐ کے تحفّظ کے لیے ریگ زارِ کرب و بلا میں جرأت و استقامت کی بے مثال تاریخ رقم کرکے یہ پیغام دے گئے کہ ؎

شدیم خاک و لیکن زبوئے تربتِ ما

تواں شناخت کزیں خاکِ مردمی خیزد

(ہم خاک ہوگئے، لیکن ہماری تربت کی خوش بو سے ہمیں پہچانا جاسکتا ہے کہ اس خاک سے بھی مردانگی پھوٹ رہی ہے)۔

شہیدِ کربلا حضرت امام حسینؓ کے متعلق بجاطور پر کہا گیا ہے ؎

شاہ است حسینؓ،پادشاہ است حسینؓ

دیں است حسینؓ، دیں پناہ است حسینؓ

سرداد، نہ داد دست در دستِ یزید

حقّا کہ بنائے لاالہٰ است حسینؓ

نواسۂ رسولؐ‘ حضرت امام حسینؓ کی یہی وہ عظیم قربانی اور کعبۃ اللہ کی عظمت و حرمت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردینے کا عظیم جذبہ اور داستانِ حرم ہے‘ جس کے متعلّق شاعرِ مشرق علاّمہ اقبال نے کہا تھا ؎

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم

نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسمٰعیلؑ 
بشکریہ جنگ۔۔۔۔۔۔۔ اس مضمون کو قارئین کی دلچسپی و معلومات کے لیے شائع کیا جارہا ہے کسی بھی قسم کی مذہبی یا تاریخی غلطی کی صورت میں فوری طور پر نشاندہی کی جاسکتی ہے تاکہ اسکی بلاتاخیر درستگی کی جاسکے

فلسفہ شہادت حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ فلسفہ شہادت حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ Reviewed by Khushab News on 6:40:00 PM Rating: 5
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.