’’آج بھی بھٹو زندہ ہے‘‘۔۔۔مگر

 جمہور نامہ۔۔۔۔۔۔۔ روف طاہر
 جناب ذوالفقار علی بھٹو تاریخ کی ان ہستیوں میں سے ایک ہیں جنہیں چاہنے والے بھی بہت تھے اور نفرت کرنے والوں کی بھی کمی نہ تھی۔چاہنے والوں نے انہیں ٹوٹ کر چاہا اور نفرت کرنے والوں نے بے پناہ نفرت کی۔ ڈاکٹر رسول بخش رئیس نے بجا فرمایا کہ آج بھٹو کا مزار ایک زیارت گاہ کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ ہمیں بھی ایک بار حاضری کا شرف حاصل ہوا‘ لیکن یہ تیس بتیس سال پرانی بات ہے‘ تب یہ آرائش وزیبائش کے لحاظ سے اتنا عظیم الشان اور پرشکوہ نہ تھا اور یاد پڑتا ہے کہ‘ قبریں بھی صرف دو تھیں‘ ایک میں بھٹو صاحب آسودۂ خاک تھے اور دوسری میں ان کے چھوٹے صاحبزادے شاہنواز بھٹو(پھر ان میں اضافہ ہوتا گیا‘مرتضیٰ بھٹو‘ بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹوبھی یہیں مٹی اوڑھے سورہے ہیں) قاضی حسین احمد 1987ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر منتخب ہوئے تو رابطہ عوام مہم کیلئے ''کاروانِ دعوت ومحبت‘‘ کا اہتمام کیا۔ کارواں نے صوبہ سرحد اور پنجاب کے بعد سندھ کا رخ کیا۔لاہور سے جو اخبار نویس اس کا حصہ بنے‘ ان میں سرمد بشیر بھی تھے۔ پی پی آئی والے جید اخبار نویس جناب بشیر قریشی (مرحوم)کے صاحبزادے کو انگریزی صحافت میں نمایاں ہونے میں زیادہ وقت نہ لگا‘ لاہور پریس کلب کے صدر بھی رہے اور پھر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر امریکہ میں ٹھکانہ کرلیا۔ کارواں سہ پہر کو لاڑکانہ پہنچا۔ جلسہ رات کو تھا۔ ہم نے بھٹو صاحب کی آخری آرام گاہ دیکھنے کا فیصلہ کیا۔''منتظمین‘‘ نے اس شرط پر اجازت دی کہ ہم مغرب سے پہلے لوٹ آئیں گے کہ ان دنوں سندھ میں امن وامان کے مسائل بڑے سنگین تھے اور رات ہوتے ہی بعض علاقوں میں''ڈاکو راج‘‘ قائم ہوجاتا تھا۔ ہم نے فاتحہ پڑھی اور مغرب تک لاڑکانہ لوٹ آئے۔ بھٹو صاحب کا معاملہ اپنے رب کے اور تاریخ کے سپرد ہوچکا۔ ویسے بھی سیاسی کالم نگاروں کے لیے ‘ آج کے مسائل کچھ اور ہیں(ان دنوں کشمیر سرِ فہرست ہے)۔ رئیس صاحب نے تازہ کالم میں اپنے ممدوح کا ذکر چھیڑا ہے اور ان کے الفاظ میں ‘ اس ضمن میں خاموشی بزدلی اور مصلحت کوشی ہوگی۔ انہوں نے بھٹو صاحب کے جواوصاف اور کمالات گنوائے ہیں ‘ ان سے کسے اختلاف ہوگا‘ وہ بلا شبہ ایک کثیر الجہت انسان تھے۔ کمال کی ذہانت ‘ وسیع مطالعہ‘ عمیق فہم و ادراک اور علم ودانش سے بے پناہ شغف ۔ آکسفورڈ اور برکلے یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ‘ قانون‘ سیاسیات اور فلسفے کے علاوہ فنِ تقریر اور عوامی جذبات کو سمجھنے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ جناب رئیس نے تاریخ کو مسخ ہونے سے بچانے کی بات کی ہے‘ یہی جذبہ ہماری ان سطور کا محرک بنا ہے۔بھٹو صاحب کی سیاست (اور شخصیت)کالم کا نہیں‘ کتاب کا موضوع ہے (ان پر کئی کتابیں لکھی جاچکیں۔ ان میں عالمی شہرت یافتہ سوانح نگار پروفیسر سٹینلے والپرٹ کی ''زلفی بھٹو آف پاکستان‘‘ بھی ہے ‘ جس کی تیاری میں بھٹو فیملی نے فاضل مصنف کی بھرپور معاونت کی‘ یہ الگ بات کہ کتاب آئی تو اس میں بھٹو صاحب کے ورثاکے لیے تسکین کی نسبت بے اطمینانی کا سامان زیادہ تھا؛ چنانچہ اس کی پروموشن سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ بھٹو صاحب کی سیاست کو ہم دوحصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک حصہ اکتوبر 1958ء سے(جب انہوں نے پاکستان کے پہلے مارشل لاء میں وفاقی وزارت کا حلف اٹھایا) 16دسمبر1971ء تک‘ جب قائد اعظم کا پاکستان دولخت ہوگیااور دوسرا حصہ20دسمبر 1971ء سے 4جولائی1977ء تک‘ جب وہ اپنے ''نئے پاکستان‘‘ میں برسرِ اقتدار رہے اور اسی دوسرے حصے کا اختصار سے ذکریہاں مقصود ہے۔ شہریوں کے لیے شناختی کارڈ سکیم‘ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پروگرام اور مختلف قومی اداروں ‘ مثلاً لوک ورثہ‘ انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز ‘ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیز‘ قائد اعظم یونیورسٹی اور پانچ مختلف یونیورسٹیوں میں مختلف ایریا سٹڈی سنٹرزجیسے اداروں کا قیام ‘ سٹیل ملز اور پاکستان کے نیو کلیئر پرگرام کا آغاز بلا شبہ بھٹو دور کے اہم کارنامے ہیں‘ لیکن ایسے کارنامے تو ڈکٹیٹر بھی انجام دیتے ہیں۔ آج ایک منصوبے کے تحت جنرل ایوب خان کی امیج بلڈنگ میں اُس دور کے منگلا اورتربیلہ کا ذکربھی کیا جاتا ہے۔ جناب بھٹو ایک سیاستدان تھے‘ مغرب کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ‘ اب ان کا اپنا ''نیا پاکستان‘‘ تھاتو کیا یہ توقع بے جاتھی کہ وہ نئی سیاست کا آغاز کریں گے‘کہ جمہوری روایات کا فروغ ہو‘ سیاسی اقدار مستحکم ہوں۔پارلیمنٹ ‘ عدلیہ اور انتظامیہ جیسے آئینی ادارے‘ آزادی اور خود مختاری کے ساتھ بروئے کار آئیں۔ ذرائع ابلاغ حقائق کے اظہار میں آزاد ہو ۔ لیکن بدقسمتی سے ان حوالوں سے ''قائد عوام‘‘ (اور ان کی حکومت) کا کردار چنداں قابلِ تعریف نہ تھا۔میڈیا کی آزادی ان کا پہلا ہدف تھا۔ زیڈ اے سلہری کی پاکستان ٹائمز کی چیف ایڈیٹری سے برطرفی بجا‘ کہ بھٹو صاحب سے سیاسی ونظریاتی اختلاف رکھنے والے صحافی کو ایک سرکاری اخبار کی ادارت پر کیسے قائم رکھا جاسکتا تھا۔ الطاف حسن قریشی‘ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی ‘مجیب الرحمن شامی اور صلاح الدین کی گرفتاری (اور ان کے پرچوں کی بندش ) کا بھی شاید کوئی ''جواز‘‘ پیش کیا جاسکے‘ لیکن ''پنجاب پنچ‘‘ کے ایڈیٹر ‘ ترقی پسند حسین نقی تو بھٹو کے ''جددجہد کے دنوں‘‘ کے ساتھی تھے‘ ‘وہ بھی حوالۂ زنداں کردیئے گئے۔ بھٹو صاحب شملہ روانہ ہوئے تو لاہور ایئر پورٹ پر الوداع کہنے والوں میں میاں طفیل محمد‘ چودھری ظہور الٰہی اور جاوید ہاشمی جیسے سخت ترین سیاسی مخالفین بھی موجود تھے‘ کچھ عرصہ بعد یہ بھی زیر ِعتاب تھے ۔ میاں طفیل محمد‘ جیل میں روارکھے جانے والے سلوک کا ‘ہائی کورٹ میں ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ ملک قاسم کی کہانی بھی مختلف نہ تھی‘ جاوید ہاشمی کو برف کی سلوں پر لٹانے کی خبر آئی تو سید مودودیؒ بھی ''جذباتی‘‘ ہو ئے بغیر نہ رہے ۔ان کا کہنا تھا: میں نے کبھی کسی کو بددعا نہیں دی‘ لیکن موجودہ حکمرانوں کے لیے بددعا کرنے پر مجبور ہوں۔عوامی حکومت کے پہلے ہی سال لاہور میں خواجہ رفیق اور ڈیرہ غازی خاں میں ڈاکٹر نذیرکا قتل...چودھری ظہور الٰہی کو بلوچستان کی مچھ جیل میں ڈال دیا گیا۔ گورنر اکبر بگٹی کے بقول: انہیں ظہور الٰہی کو ''پولیس مقابلے‘‘ میں مروانے کی ہدایت کی گئی‘ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ یہ بلوچوں کے آداب ِمہمان نوازی کے خلاف ہے... بلوچستان میں عطا اللہ مینگل کی منتخب حکومت سال بھی مکمل نہ کرپائی تھی کہ اسے ''عراقی اسلحہ سکینڈل‘‘میں برطرف کردیا گیا (صوبہ سرحد میں مفتی محمود صاحب کی حکومت احتجاجاً مستعفی ہوگئی) اس پر لیاقت باغ کے احتجاجی جلسۂ عام پر فائرنگ میں متعدد افراد مارے گئے ‘ ان میں زیادہ تعداد صوبہ سرحد والوں کی تھی۔ انہیں لانے والی گاڑیاں نذرِ آتش کردی گئیں۔ اس کے باوجود ولی خاں کی زیر قیادت‘ حزب اختلاف نے 1973ء کے آئین کومتفقہ بنانے میں بھرپور تعاون کیا‘جس کے صلے میں کچھ ہی عرصہ بعد نیشنل عوامی پارٹی کو خلافِ قانون قرار دے کر ‘ ولی خاں ‘ سردار عطا اللہ مینگل‘ نواب خیر بخش مری اور غوث بخش بزنجو کو غداری کے الزام میں حیدر آباد ٹربیونل کے سپرد کردیاگیا اور اڑھائی‘ تین سال کے عرصے میں آئین میں پانچ ‘چھ ترامیم کردی گئیں(یہ عدلیہ کو بے بال وپر کرنے کے لیے تھیں) ایسا بھی ہوا کہ آئینی ترمیم کو بلڈوز کرنے کے لیے اپوزیشن کو سارجنٹ ایٹ آرمز کے ذریعے ایوان سے باہر دھکیل دیا گیا۔لاہور میں حلقہ6کے ضمنی الیکشن میں‘ شادباغ کے تاجپورہ گرائونڈ میں خون کی ہولی...خود بھٹو صاحب کے اپنے انقلابی ساتھیوں مثلاً معراج محمد خاں پر جیل میں نارواسلوک‘ افتخار تاری جیسے باغیوں کے لیے دلائی کیمپ۔1977ء کے الیکشن میں‘ انتخابی حریفوں کے اغوا کے ذریعے جناب وزیر اعظم اور چاروں صوبائی وزرا ئے اعلیٰ سمیت متعدد نشستوں پر''بلا مقابلہ‘‘ کامیابی۔ الیکشن کے دن دھونس دھاندلی کے نئے ریکارڈ ۔انتخابی دھاندلیوں کے خلاف تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے محابااستعمال‘ پھر مذاکرات کی بلا جواز طوالت ...اور آخر میں ضیا الحق کا مارشل لا۔ مجھے جناب بھٹو سے شکایت یہ ہے کہ انہیں نئے پاکستان میں جمہوریت کے فروغ اور استحکام کا جو موقع ملا تھا‘ کاش! وہ اسے ضائع نہ کرتے‘ 5جولائی1977ء کا سبق یہ ہے کہ اپوزیشن کو دیوار سے نہ لگایا جائے‘ تبدیلی کیلئے آئینی راستے مسدود نہ کئے جائیں‘ کوئی ایک کھڑکی‘ کوئی ایک روشندان تو کھلا رکھا جائے کہ حبس اس انتہا کو نہ پہنچ جائے جہاں لوگ لُو کی دعا مانگنے لگیں۔۔۔۔۔ بشکریہ روزنامہ دنیا
’’آج بھی بھٹو زندہ ہے‘‘۔۔۔مگر ’’آج بھی بھٹو زندہ ہے‘‘۔۔۔مگر Reviewed by Khushab News on 3:39:00 PM Rating: 5
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.